Saturday, 21 December 2013

آج میں نے سوچ لیا ہے کہ مجھے بھی بلاگر بننا ہے اصل قصہ کچھ یوں ہے.... بچپن میں سنا تھا گانا اور رونا سب کو آتا ہے لیکن بڑے ہو کے پتہ چلا کے ہر کوی پیدائشی لکھاری بھی ہوتا ہے اور ٹویٹر پہ تو یہ چیز اب لازم و ملزوم نظر آتی ہے جس کسی کی پروفائل کھنگالو ایک چیز ضرور نظر اتی ہے اور وہ بلاگنگ اڈریس ہے-اسی لیے سوچا یہ کام بھی کر ہی لیا جائے. اکثر اوقات تو سب چربہ هوتے ہیں اور ویسے بھی صرف امپریس کرنے کے لیے تو چھاپ ہی ضروری ہے کیونکہ کھول کے پڑھتا تو کوئی بھی نہی. اب مسئلہ یہ تھا کہ کیا لکھا جائے. پہلے سوچا آسان ہے، سیاست تو گھر کی لونڈی ہے اس لیے آرام سے تنقید کی بوچھاڑ کرتے ہیں اور واہ واہ کرواتے ہیں پھر خیال آیا اتنی جلدی خود پہ چھاپ کیوں لگوانی کیا پتہ کل کو کہیں سے " لفافہ" آ گیا تو پلٹی مارنا مشکل ہو جائے گا ویسے بھی اب بقول نذیر ناجی کے بریف کیس ملتے ہیں اور مجھے اپنی قابلیت پہ یقین ہے کہ مجھے تو سوٹ کیس ہی ملیں گے اس لیے یہ ابھی مناسب وقت نہیں. ایک خیال یہ تھا کہ ویسے تو دسمبر کے مہینے کی مناسبت سے ہر طرف ناکام محبت کی داستانوں اور شعروں کا دور دورہ ہے اس لیے اچھا سمجھا اسی میں حصہ ڈالتے ہوے اپنی ناکام محبتوں کی لسٹ میں سے کسی ایک پے روشنی ڈالی جائے اور ان رازوں سے پردہ اٹھایا جائے جن کی وجہ سے ابھی تک ہم کنوارے ہیں لکن کیونکہ ساری عمر کنوارے رہنے کا شوق نہی اس لیے بیڈ امپریشن سے بچتے ہوے اس موضوع سے بھی کنی کترا گیا. پھر سوچا کیوں نہ مذہب پہ بات کی جائے کیونکہ ساری زندگی جمعہ کے خطبات سنے ہیں اور اتنا ہی علم کافی ہوتا ہے اپنی دھاک بٹھانے کیلیے اور ویسے بھی عام طور پہ ٹویٹر پہ اکثر بحث کی دلیل یہی خطبات هوتے ہیں اور سنانے والے خود نہیں جانتے ان کی شروعات کہاں سے هوئی لیکن کفر کے فتویٰ سے بچتے ہوۓ سوچا یہ بھی نہ کیا جائے. ایک اچھوتا خیال یہ تھا اپنے ٹویٹر فیلوز کے بارے میں اظھار خیال کیا جائے اور سچ سچ لکھ دیا جائے لیکن پھر سوچا سمندر میں رہ کے مگرمچھ اور جل پریوں سے بیر بلکل مناسب نہی اور ویسے بھی پھر ان کا سچ سننے کا حوصلہ بھی کرنا پڑتا جو کے نہیں ہے. مزاح لکھنے کی کوشش کی لکن پھر اندازہ ہوا یہ 140 الفاظ سے زیادہ لکھنا مشکل ہے اور اگر لکھا بھی جائے تواس میں چربہ سازی زیادہ واضح ہو جاتی ہے جو میرے لیے ہاسے کا سبب بن سکتا ہے. اصل میں عالمگیر سچائی تو یہ ہے کہ پہلا تاثر ہمیشہ ہی انسان کی آگے کی زندگی میں بہت وزن رکھتا ہے پس طے ہوا بس صفر آغاز کیا جائے اور ڈی ایم کر کے زبردستی تعریف بٹوری جائے. جس کو یہ تحریر پسند نہ ہے وہ بدذوق ہے اور آنے والے وقت کے بہت بڑے لکھاری سے اپنے تعلقات خراب کر رہا ہے جس کا وہ خود زمہ دار ہو گا. Follow on Twitter @aqibhassan